سوال

ایک آدمی جس کی داڑھی ایک قبضہ نہیں ہےاور اسے کترواتا ہے،اس کو دوسرا آدمی کہتا ہےکہ آپ داڑھی نہ کتروائیں مکمل رکھ لیں، وہ جوابا کہتا ہےکہ تیرے باپ کی داڑھی ہےجو میں رکھوں، اس کا جوابا اس طرح کہنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک مٹھی سے کم داڑھی رکھنا اورسمجھانے پر اس طرح کے کلمات کہنا سخت گناہ کا موجب ہے، اس طرح کی گستاخی بسا اوقات آدمی کو کفر تک لے جاتی ہے۔ والعیاذباللہ من ذلک

لما فی الھندیہ:(2/274،275،رشیدیہ)
رجل قال للامر بالمعروف ”چہغوغہ آمد”ان قال ذلک علی وجہ الرد ولانکار یخاف علیہ الکفر
وفیہ ایضا
اذا قال لاخرقل “لا الہ الا اللّٰہ “فقال لا اقول فقال بعض المشایخ ہو کفر وقال بعضھم ان عنی بہ انی لا اقول بامرک لا یکفر
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیہ:(6/328،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(7/284،فاروقیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/506،507،مکتبة المنار)
وکذافی البحر الرائق:(5/206،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار:( 4/222،سعید)
وکذافی شرح الفقہ الاکبر:(254،قدیمی)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/589،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:16

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔