سوال

زید نے عشاء کی نماز میں سراً قراءت شروع کی”الرحمن الرحیم”کے بعد یاد آنے پر جہراً قراءت کی پھر سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح قول کے مطابق سری نمازوں میں جہراً یا جہری نمازوں میں سرا 30 حروف(بشمول حروف محذوفہ) قرا ءت کرنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے اور سجدہ سہو چھوٹ جانے پر نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ”الرحیم” تک سراً قراءت کی ہے جو کہ 30 حروف سے زائد ہے، اس لیے سجدہ سہو لازم تھا جو کہ ترک کر دیا لہذا نماز واجب الاعادہ ہے۔

لما فی البناية شرح الهداية:(2/737،رشیدیہ)
اختلفت الرواية عن أصحابنا في مقدار ما يتعلق به السهو من الجهر فيما يخفى، والإخفاء فيما يجهر، فذكر الحاكم الخليل عن ابن سماعة عن محمد أنه قال: إذا جهر بأكثر الفاتحة يسجد ثم رجع فقال إذا جهر مقدار ما يجوز به الصلاة تجب وإلا فلا
وفی الھندیة:(1/128،رشیدیہ)
ومنها الجهر والإخفاءحتى لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما يجب به السهو منهما قيل: يعتبر في الفصلين بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح ولا فرق بين الفاتحة وغيرها
وفی التنویر مع الشرح:(1/458،سعید)
وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو” ثم نظر ثم عبس وبسر ثم أدبر واستكبر ” (المدثر) وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا
وفی الشامیة:(1/458،سعید)
قوله تعدل ثلاثا قصارا) أي مثل – {ثم نظر} [المدثر: 21]- إلخ وهي ثلاثون حرفا، فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات
وفی المحیط البرھانی:(2/312،بیروت)
وذکر ابن سماعۃ عن محمد رحمہ اللہ تعالی فیما اذا جہر فیما یخافت او خافت فیما یجھر انہ اذا فعل ذلک مقدار ما تجوز بہ الصلاۃ من فاتحۃ الکتاب او غیرہا فعلیہ السہو وما لا فلا
وکذافی التاتارخانیة:(2/395،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/388،المکتبة الحقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/170،رشیدیہ)
وکذافی التجرید:(2/707، 708،محمودیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/238،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1109،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/175، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/194،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 99

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔