الجواب حامداً ومصلیا
رات کو جھاڑو لگانے سےمتعلق شریعت مطہرہ میں کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی،بلکہ مطلقا نظافت اور صفائی ستھرائی کا حکم دیا ہے،وقت کی کوئی قید نہیں لگائی،لہذا رات کو جھاڑو لگانا جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5330،رشیدیہ)
الاصل فی الاشیاء والافعال ولاقوال الاباحۃ
وفی الشامیة:(2/432،سعید)
والحاصل ان مقتضی القواعد الجواز ما لم یوجد نقل صریح بخلافہ تامل
وکذافی فتح الباری:(13/334،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(1/130،علوم اسلامیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(6/52،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الاستذکار:(3/276،بیروت)
وکذافی فیض القدیر:(4/384،بیروت)
مشکوۃ المصابیح:(1/39،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/12/2020/1442/8/5
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 67