الجواب حامداً ومصلیاً
صورت مسؤلہ میں پلاٹ کی زکوۃ واجب نہیں ہے،البتہ پلاٹ کو بیچنے کے بعد حاصل ہونے والی رقم اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس رقم پر زکوۃ واجب ہو گی۔ اگر یہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ہو تو دوسرے مال کے ساتھ اس رقم کی بھی زکوۃ ادا کرےگا۔
لما فی کتاب الفقہ:(1/516،حقانیہ)
ومنھاان ینوی التجارۃ وان تکون ھذہ النیۃ مصحوبۃ بعمل تجارۃ فعلا فلو اشتری حیوانا یستخدمہ ثم نوی ان یتجر فیہ لا یکون للتجارۃ الا اذا شرع فی بیعہ او تاجیرہ بالفعل
وفی بدائع الصنائع:(2/94،رشیدیہ)
ولو اشترى عروضا للبذلة والمهنة ثم نوى أن تكون للتجارة بعد ذلك لا تصير للتجارة ما لم يبعها فيكون بدلها للتجارة
وکذافی ملتقی الابحر:(1/291،المنار)
وکذافی مجمع لانھر: (1/291،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/165،بیروت)
وکذافی النتویر مع الدر المختار:(2/272،سعید)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/166،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1867،رشیدیہ)
وکذافی النھایة:(2/225،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/7/1442/2021/2/17
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 130