الجواب حامداً ومصلیاً
قومی بچت میں فکس کروائی ہوئی رقم سے ملنے والا منافع خالصتاًسود ہے، اس سے اجتناب لازم ہےاور بیوی کے اخراجات شوہر پر لازم ہیں، لہذا وہ شوہر سے رزق حلال کا پر زور مطالبہ کرتی رہے۔
اگر بیوی کے لیے حلال آمدن کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے،مثلاً وہ شوہر کے نام قرض نہیں لے سکتی یا کوئی دوسرا شخص اس پر خرچ کرنے والا بھی نہیں ہے تو بوجہ مجبوری عورت بقدر ضرورت یہ مال استعمال کر سکتی ہے ان شاء اللہ گناہگارنہ ہو گی تاہم ساتھ ساتھ استغفار کرتی رہے اب اس صورت حال میں اہل و عیال کےلئے رزق حلال کا انتظام نہ کرنے کی وجہ سے خاوند گناہگار ہو گا۔
لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/254،الطارق)
ذھب بعض العلماء المعاصرین الی القول بحل فوائد البنوک وشھادات الاستثمار . . . . وھی دعوی باطلۃ لان تلک المعاملات تعتبر من القرض بفائدۃ مشروطۃ فھی تندرج تحت ربا النسیئۃ المحرم بالنصوص الصحیحۃ والاجماع ولم یخالف فی حرمتھا مسلم قبلھا
وفی فقہ البیوع:(2/1063،معارف القرآن)
وحساب التوفیر حساب یعطی الحق لصاحب الحساب ان یسحب حداً معیناً من المبالغ المودعۃ فیہ ویعطی البنک علی ذلک فائدۃ ربویۃ بنسبۃ ادنی من النسبۃ التی تعطی لصاحب الودیعۃالثابتۃالتی تودع فیھا الاموال الی مدۃ معینۃ وتعطی البنوک لاصحابھا فائدۃ بنسبۃ اعلی، وکل واحد من الحسابین ربوی بحت ولایداع فی ھذین الحسابین حرام شرعاً لکونہ تعاقداً بالربوا
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3745،3746،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/64،73،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(7/307،413،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/158،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(3/400،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/12/2020/1442/5/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:62