سوال

ایک لڑکا دو سال تک جمعہ ایسی مسجد میں پڑھتا رہا جس میں خطبہ سندھی زبان میں ہوتا تھا، بعد میں مسئلے کا پتہ چلا تو اب ان دو سالوں کے جمعہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

غیر عربی میں خطبہ جمعہ پڑھنا اگرچہ مکروہ تحریمی ہے، لیکن نماز ادا ہو جاتی ہے،لہذا ان دو سالوں کا جمعہ ادا ہو گیا ہے،آئندہ ایسی مسجد میں جمعہ ادا کیا جائے جہاں خطبہ عربی زبان میں ہوتا ہو اور پہلے عمل پر استغفار کیا جائے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(19/180،علوم اسلامیہ)
وقال ابو حنیفۃ وہو المعتمد عند الحنفیۃ تصح بغیر العربیۃ ولو کان الخطیب عارفا بالعربیۃ ووافق الصاحبان الجمھور فی اشتراط کونھا بالعربیۃ الا للعاجز عنھا
وفی عمدة الرعایة علی ھامش شرح الوقایة:(1/242،امدادیہ)
ولو خطب بالفارسیۃاو بغیرھاجاز وکذا قالوا والمراد بالجواز ہو الجواز فی حق الصلوۃ بمعنی انہ یکفی لاداء الشرطیۃ وتصح بھا الصلوۃ لاالجواز بمعنی الاباحۃ المطلقۃ فانہ لا شک فی ان الخطبۃ بغیر العربیۃ خلاف السنۃ المتوارثۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم والصحابۃ فیکون مکروھاً تحریماً
وکذافی مجموعة رسائل اللکنوی:(4/376،380، ادارةالقرآن والعلوم الاسلامیة)
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق للشیخ الشلبی:(1/220،امدادیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1310، رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/220،امدادیة)
وکذافی النھایة:(2/57، رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(1/242،امدادیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/450،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:151

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔