الجواب حامداً ومصلیاً
غیر مسلم عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرناشرعا قابل اعتبار نہیں ہے لہذا صورت مسولہ میں خلع درست نہیں ہوا،البتہ اگرشوہر واقعتاناقابل برداشت مار پیٹ کرتا ہے تو پھر وہاں کے صاحبِ رائے دین دارمسلمانوں کی ایک جماعت جنکی تعداد کم از کم تین ہو اور ان میں ایک جید عالم بھی ہو ان کے سامنےیہ مسئلہ پیش کیا جائے اگر یہ جماعت غور وفکر کے بعد متفقہ طور پرزوجین میں تفریق کا فیصلہ کر دےتو یہ تفریق مالکیہ کے ہاں شرعا معتبر ہو گی اور موجودہ دور میں ضرورت کے پیش نظر احناف کا فتوی بھی اسی پر ہے۔
لما فی البدائع الصنائع:(5/438،رشیدیہ)
الصلاحیۃ للقضاء لھا شرائط منھا العقل ومنھا البلوغ ومنھا الاسلام
وفی قضایا فقھیة معاصرة:(2/178،179،معارف القرآن)
یقول العلامۃ الدسوقی رحمہ اللہ تعالی(اعلم ان جماعۃ المسلمین العدول یقومون مقام الحاکم فی ذلک) وھذا یدل علی ان جماعۃ المسلیمن تقوم مقام القاضی
وفیہ ایضا
وتبین بھذا ان الفقھاء المالکیہ یفوضون سلطۃ القضاء الی جماعۃ المسلمین فی جمیع الامور التی تحتاج الی قضاء ولا یوجد قاض شرعی عادل. . . ولا شک ان فی ھذا القول سعۃ للمسلمین القاطنین فی بلاد غیر المسلمین. . . . فلو لم ناخذ بقول المالکیۃ فی ھذاالباب لادّی ذلک الی ما لا یحتمل من التعاسۃ والشقاء
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/5936،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(11/5،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/54،علوم اسلامیة) وکذافی الھندیہ:(3/307، رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/437، رشیدیہ) وکذافی الشامیہ:(5/354، سعید)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1442/5/3/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 14