سوال

ہمارے ایک آدمی نے ایک بڑی کالونی تیا رکرنے کا منصوبہ بنایا ہے،کالونی کے لیے ابھی کسی جگہ کا انتخاب نہیں کیا گیا،شہر میں جس جگہ مناسب زمین ملے گی وہاں تعمیر شروع کر دی جائے گی،لیکن ابھی سے کالونی میں بنائے جانے والے پلاٹوں کی فائلیں تیار کر کے ان کی خرید و فروخت شروع کر دی گئی ہے ۔ کیا اس طرح خرید و فروخت درست ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں فروخت کیا جانے والا پلاٹ محل وقوع اور دیگر اوصاف کے لحاظ سے مکمل مجھول وغیر متعین ہے،لہذا اس کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(3/3،رشیدیہ)
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح
وفی بدائع الصنائع:(4/355،رشیدیہ)
ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع
وکذافی التنویر:(7/70،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(7/70،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/369،معارف القرآن)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(9/15،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(3/6،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/18،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/3353،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:30

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔