الجواب حامداً ومصلیاً
اگر اس محکمے کا ملازم جائز کام کرتا ہو،مثلاحفاظتی ٹیکے لگانا،زچہ بچہ کی صحت سے متعلق رہنمائی وادویات فراہم کرنا تو پھریہ ملازمت جائز ہے۔البتہ اگر ناجائز کام کرتا ہو مثلا مرد یا عورت سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کرنا،بلاعذر ومجبوری عورت کی بچہ دانی نکالنا،نس بندی کرنایا حمل ضائع کرنا وغیرہ تو پھر یہ ملازمت جائز نہیں ہے۔
لما فی مشکوة المصابیح:(2/284،رحمانیہ)
وعن جذامة بنت وهب قالت: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم في أناس وهو يقول:لقد هممت أن أنهى عن الغيلة فنظرت في الروم وفارس فإذا هم يغيلون أولادهم فلا يضر أولادهم ذلك شيئا ثم سألوه عن العزل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك الوأد الخفي وهي “وإذا الموؤودة سئلت
وفی البحر الرائق:(8/375،رشیدیہ)
ویکرہ کسب الخصی من بنی اٰدم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2644،رشیدیہ)
ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/401،الطارق)
والجدیر بالذکر ھنا ان مشروعیۃ العزل لا تعنی تحدید النسل فلا وجود لھذہ الفکرۃ الرائجۃ فی عصرنا الحاضر فی الشریعۃ الاسلامیۃ….ولا یجوز استعمالھا کسیاسۃ جماعیۃ موجھۃ تودی الی تحدید النسل فی المجتمع
وکذافی فتح الملھم:(6/452،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی البحر الرائق:(8/377،365،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/157،فاروقیہ)
وکذافی عمدة القاری:(20/72،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/82،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المختار:(6/360،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(326،زمزم)
وکذافی الشامیہ:(4/335،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 199