الجواب حامداً ومصلیاً
اس سے متعلق صریح جزئیہ تو نہیں ملا البتہ فقہاء نے ایک اصول بیان کیا ہے کہ”امام کی حالت قوی ہو اور مقتدی کی حالت اس کی مثل ہو یا اس سے ضعیف ہو تو اقتداءدرست ہے“اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی معلوم ہوتاہے کہ فرض پڑھنے والے کی اقتداء میں آدمی سنت ادا کر سکتا ہے،واللہ اعلم، اس کے بارے میں دوسرےعلماء سے بھی رجوع کر لیا جائے۔
لما فی الھندیہ:(1/86،رشیدیہ)
ویصلی المتنفل خلف المفترض…. والاصل فی ھذہ المسائل ان حال الامام ان کان مثل حال المقتدی او فوقہ جازت صلاۃ الکل
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1242،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(2/436،679،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/255،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/181،182،196،بیروت)
وکذافی المبسوط:(1/136،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/267،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(1/639،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/268،فاروقیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-1-2021/1442-6-2
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 153