الجواب حامداً ومصلیاً
اس عورت کی عدت تین حیض ہے چاہے وہ چھ ماہ بعد ہی آئیں، البتہ نفاس میں طلاق دینے کی وجہ سے شوہر سخت گنہگار ہوا ہے۔
لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:( 9/ 6953،رشیدیہ)
وزمن الحیض لا یحسب من العدۃ وسبب الحرمۃتضررھا بطول العدۃ فان بقیۃ الحیض لا تحسب منھا والنفاس کا لحیض
وفی المختصر القدوری:(171،الخلیل)
اذا طلق الرجل امر اتہ فی حال الحیض وقع الطلاق ویستحب لہ ان یراجعھا لحدیث ابن عمررضي الله عنهما
وکذافی رد المحتار:(1/546،رشیدیہ ) وکذافی النهر الفائق:(2/314،قديمي )
وکذا فی التاتارخانيه:( 5/254،فاروقيه) وکذا فی الهنديه:(1/352، رشیدیہ )
وکذافی المبسوط:(4/40، بيروت) وکذا فی بدائع الصنائع:(3 /153،315،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/13/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 196