سوال

رشیہ ملک کی ایک ویب سائٹ ہے،یہ ویب سائٹ پاکستان میں نہیں چلتی ۔اس ویب سائٹ کو چلانے کے لیےایک اور موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اس ویب سائٹ کا اکاونٹ بنانے کے لیے پاکستان کا پتہ نہیں دے سکتے اگر پاکستان کا پتہ دیتے ہیں تو اکاؤنٹ نہیں بن سکتاکسی اور ملک کا پتہ لکھوانا پڑتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے کا مقصد یہ ہےکہ جب آپ کااکاؤنٹ بن جائے توپھر دیگر مختلف لوگ جو اس ویب سائٹ کو استعمال کرناچاہتے ہیں،وہ آپ سےاس کے متعلق معلومات لیں گئے،آپ کا کام ان لوگوں کومعلومات فراہم کرنا ہے۔شروع میں100 جوابات دینا ہوں گئے،پھر اس کے بعد آپ کو 20 جواب روزانہ دینے ہوں گئے اور آپ کو ان جوابات دینے کامعاوضہ دیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہےکہ یہ کام کرنا جائز ہے یاناجائز؟ اس کا معاوضہ لینا حرام ہے یا حلال؟ اگر حرام ہے تو جو احباب معاوضہ لے چکے اور استعمال کر چکے ان کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے غلط پتہ بتلانا یہ کذب بیانی اور دھوکہ ہے جو کہ بہت بڑا گناہ ہے،اس عمل پر توبہ واستغفار کرنا لازمی ہےاور نہ ہی ایسا گناہ کا کام کرنے کی اجازت ہے،باقی اگر کسی نے ناواقفیت میں ایسا اکاؤنٹ کھول لیا تھا تو اکاؤنٹ کھل جانے کے بعد جوابات دینے پر ملنے والی رقم اس کے عمل کا معاوضہ ہے،لہذا یہ رقم لینے کی گنجائش ہو گی،بشرطیکہ یہ جوابات فحش گوئی اور بیہودگی وغیرہ، گناہ کے کاموں پر مشتمل نہ ہوں۔

لما فی صحیح البخاری:(1/10،قدیمی)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اٰیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا اؤتمن خان
وفی جامع الترمذی:(1/157،فاروقی کتب خانہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا…. والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام
وفی البحر الرائق :(8/33،رشیدیہ)
ومهر البغي في الحديث هو أن يؤاجر أمته على الزنا وما أخذه من المهر فهو حرام عندهما، وعند الإمام إن أخذه بغير عقد بأن زنى بأمته، ثم أعطاها شيئا فهو حرام؛ لأنه أخذه بغير حق وإن استأجرها ليزني بها، ثم أعطاها مهرها أو ما شرط لها لا بأس بأخذه؛ لأنه في إجارة فاسدة فيطيب له وإن كان السبب حراما
وکذافی دلیل الفالحین:(1/174،دار الحدیث القاھرة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(1/82،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ :(278،رحمانیہ)
وکذافی المجلة:(/498،552 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:62

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔