سوال

ایک شخص کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ،ایسا شخص اگر بیوی کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جس شخص کا ذہنی توازن درست نہ ہو اسکی دی ہوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔

لمافی النسائی:(2/533،رحمانیة)
عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال رفع القلم عن ثلاث عن النائم حتی یستیقظ وعن الصغیر حتی یکبر وعن المجنون حتی یعقل او یفیق
و فی البدائع الصنائع:(3/158،رشیدیة)
فلا یقع طلاق المجنون والصبی الذی لا یعقل،لان العقل شرط اھلیۃالتصرف لان بہ یعرف کون التصرف مصلحۃ
وفی البزازیة:(4/170، رشیدیة)
النائم والمغمی علیہ والصبی والمجنون . . . . .طلق او اعتق . . . .لا یترتب علیہ الحکم فلا یقع طلاقہ
وکذا فی ابن ماجہ:(264، رحمانیہ)
وکذا فی الترمذی:(1/356،رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/434،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(4/392 ،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/168،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 9

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔