سوال

دھوپ میں اس طرح سونا کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ چھاؤں میں ہو ،جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

حضور ﷺنے کچھ دھوپ اور کچھ چھاؤں میں بیٹھنے سے منع کیا ہے اور ایسی جگہ بیٹھنا طبی طور پر بھی انسان کے لئے مضر ہے۔

لما فی ابو داؤد:(2/320،رحمانیہ)
عن ابی ھریرةرضی اللہ تعالی عنہ یقول ابوالقاسم ﷺاذا کان احدکم فی الشمس وقال مخلد فی الفئ فقلص عنہ الظل فیصار بعضہ فی الشمس وبعضہ فی الظل فلیقم
وفی الکتاب المصنف:(5/268،دارالکتب العلمیة)
عن قتادۃرضی اللہ تعالی عنہ قال :نھی رسول اللہ ﷺان یقعد الرجل بین الظل والشمس
وکذافی عون المعبود:(13/74،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی بذل المجھود:(13/74،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی المشکوۃ المصابیح:(2/418،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/168،علو م اسلامیہ)
وکذافی المرقاۃ:(8/490،التجاریہ)
وکذافی اشعةاللمعات:(4/39،رشیدیہ)
وکذافی التعلیق الصبیح:(5/134،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 50

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔