الجواب حامداً ومصلیاً
گلی کے سولنگ میں سرکاری خرچہ سے جو اینٹیں لگائی جاتی ہیں ان میں اباحت ہوتی ہے۔لہذا ان اینٹوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں۔کیونکہ اس میں اولی الامر کی مخالفت ہےاور قوم کے پیسوں کا غلط استعمال ،خیانت،اور دھوکہ ہے۔
لما فی القرآن الحکیم:(59/سورة نسآء)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4567،رشیدیہ)
ما لا يقبل التمليك ولا التملك بحال: وهو ما خصص للنفع العام كالطرق العامة. . .. . فهذه الأشياء غير قابلة للتملك لتخصيصها للمنافع العامة
وفیہ ایضا:(6/4553،رشیدیہ)
أما الإباحة: فهي حق الإنسان بأن ينتفع بنفسه بشيء بموجب إذن. والإذن قد يكون. . .. من الشرع كالانتفاع بالمرافق العامة، من طرقات وأنهار ومراع ونحوها
وکذا فی المشکوةالمصابیح:(1/261،رحمانیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/4553و4557،رحمانیہ)
وکذا فی شرح المجلة:(4/12،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/6/1442/2021/2/8
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:182