سوال

حضور اکرم ﷺنے جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو حق مہر کتنا تھا ؟(2)نکاح کے وقت دونوں کی عمر مبارک کتنی تھی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے حق مہر کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں :چالیس درہم،چارسو درہم اور پانچ سو درہم ،البتہ مسلم شریف کی روایت کے مطابق مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا،جس کی مقدار پانچ سو درہم بنتی ہےاور یہی زیادہ راجح ہے۔(2)نکاح کے وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ یا سات سال تھی اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔چونکہ یہ نکاح دس نبوی شوال میں ہوا اس لحاظ سے آپﷺ کی عمر مبارک انچاس یا پچاس سال بنتی ہے۔حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “سیرت خاتم الانبیاء”میں انچاس سال لکھی ہے۔(سیرت:32،دارالاشاعت)

 

لما فی الصحیح للمسلم:(1/458،قدیمی)
” عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه» .”
وفی السنن الکبری:(7/380،بیروت)
عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت:ما أصدق رسول اللہ ﷺأحدا من نسائہ ولا بناتہ فوق اثنی عشر أوقیۃ الا ام حبیبۃ فان النجاشی زوجہ ایاھا وأصدقھا أربعۃ آلاف
وکذافی الصحیح للبخاری :(1/686،رحمانیہ)
“عن هشام، عن أبيه، قال: «توفيت خديجة قبل مخرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة بثلاث سنين، فلبث سنتين أو قريبا من ذلك، ونكح عائشة وهي بنت ست سنين، ثم بنى بها وهي بنت تسع سنين
وکذا فی الطبقات الکبری:(4/271،عمریہ)
قالت سمعت عائشہ تقول :تزوجنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شوال سنۃ عشر من النبوۃ قبل الھجرۃلثلاث سنین وانا ابنۃست سنین،وھاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقدم المدینۃ یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاول ،وأعرس بی فی شوال علی رأس ثمانیۃ أشھر من المھاجر ،وکنت یوم دخل بی ابنۃ تسع سنین
وکذا فی مجمع الزوائد:(4/369،بیروت) وکذا فی سبل الھدی والرشاد:(9/48،نعمانیہ)
وکذا فی زاد المعاد:(4/983،علمیہ) وکذا فی البدایہ والنھایہ:(3/104،بیروت)
وکذا فی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب:(4/436،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 94

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔