سوال

ایسے صفحات جن پر آیات قرآنیہ ہوں یا احادیث مبارکہ ہوں ان کو جلانا یا پانی میں بہانا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

ایسے اوراق مقدسہ کو جاری پانی میں بہانا بھی درست ہے،البتہ بہتر یہ ہے کہ ان کو کسی پاک صاف کپڑے میں لپیٹ کرمحفوظ جگہ مثلا قبرستان وغیرہ میں لحد کھود کر دفن کر دیا جائےیا اگر ممکن ہو تو”تحفظ اوراق مقدسہ” کے لیے لگائے گئے بکس وغیرہ میں رکھ دیے جائیں۔اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو ان سے اسماء مقدسہ کو مٹا کر جلا سکتےہیں،لیکن یہ حکم انتہائی مجبوری کے وقت کا ہے۔

لما فی الھندیہ:(5/323،رشیدیہ)
 المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب .المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة
وفی عمدة القاری:(20/19،داراحیاء)
قولہ (کل صحیفۃ او مصحف ان یخرق)وقال ابن بطال: في هذا الحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله، عز وجل، بالنار وإن ذلك إكرام لها وصون عن وطئها بالأقدام، وقيل: هذا كان في ذلك الوقت، وأما الآن فالغسل إذا دعت الحاجة إلى إزالته، وقال أصحابنا الحنيفة: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطء الناس
وکذافی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(313،زمزم)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/68،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المختار:(9/696،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،داراحیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/45،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/507،طارق)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(38/35،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر :22 فتوی نمبر: 91

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔