سوال

میری موبائلوں کی دوکان ہے،میں ایزی لوڈ کا کام کرتا ہوں،ہمیں کمپنی ہزار روپے کے بدلےایک ہزار پچیس روپےدیتی ہے،جو ہمارا نفع ہوتا ہے،کیا یہ پچیس روپے زیادہ لینا جائز ہے سود تو نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

صورت مسئولہ میں یہ معاملہ کمپنی اور اس کے نمائندہ دکاندار کے درمیان عقد اجارہ ہے،لہذا دکاندار کا اپنی خدمت کا عوض معلوم نفع لینا جائز ہے۔

لما فی التنویر وشرحہ:(9/9،رشیدیہ)
منافعها) شهرا بكذا؛ أفاد أن ركنها الإيجاب والقبول. وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة
وفی الھندیہ:(4/411،رشیدیہ)
ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا
وکذا فی البحر:(7/507،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(398،بشری)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/260،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/23/03
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 95

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔