سوال

ایک لڑکا اپنےوالد سے کئی دفعہ کاروبار کے لیے رقم لے کر ضائع کر چکا ہے ،اب اس کا والد کہتا ہے اب جو رقم تجھے دوں گا وہ بطور قرض ہو گی اور اگر ادا نہ کیا تو میرے مرنے کے بعد وراثت سے جو رقم تمہیں ملے گی اس سے منہا کیا جائے گا،کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح ہے۔

لما فی البدائع:(6/519،رشیدیہ)
وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال
وفی الشامیہ:(6/434،رشیدیہ)
قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(33/123،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،3790،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/202/04/28
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 151

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔