الجواب حامداً ومصلیاً
پائے تا بے(جرموق) پر مسح اس وقت جائز ہوگا جب ان کو حدث لاحق ہونے اور موزوں پر مسح کرنے سے پہلے پہنا ہو۔
لمافی الفتاوی الھندیۃ:(1/32،رشیدیہ)
“وان لبسھما قبل ان یحدث جاز المسح علیھما.”
وفی الفتاوی الخانیۃ علی ھا مش الھندیۃ:(1/52،رشیدیہ)
” وان لبس الجرموق قبل ان یحدث ویمسح جاز المسح علی الجرموقین عندنا .”
وکذافی البحر الرائق:(1/313،رشیدیہ) وکذافی بدائع الصنائع:(1/85،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع شرحہ: (1/268،سعید) وکذا فی التاتارخانیۃ:(1/408،فاروقیہ)
وکذافی الشامیۃ: (1/268،سعید) وکذا فی الفتاوی السراجیۃ:(45،زمزم)
واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17 شوال المکرم1441، 9جون 2020