سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق نامہ بھیجا،بیوی کے گھر والوں نے اس کو کہا آپ اس پر دستخط نہ کرو اسی طرح واپس بھیج دو،بیوی نے واپس بھیج دیا،اب عورت کے گھر والے کہتے ہیں کہ چونکہ ہم نے دستخط نہیں کیےلہذا طلاق بھی نہیں ہوئی تو کیا شرعاً طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

خاوند کے طلاق نامہ تحریر کرنے سے ہی طلاق واقع ہو گئی،اگرچہ طلاق نامہ پر بیوی نے دستخط نہ کیے ہوں۔

لما فی الشامیہ:(4/442،رشیدیہ)
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/471،رشیدیہ)
فإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا یخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وکذافی البدائع:(3/173،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(3/433، رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/528،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/91، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/11/3
جلد نمبر :24 فتوی نمبر:10

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔