سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو صاف طور پرتین طلاقیں دیں،ایک صاحب نے ان دونوں کا نکاح (بلاحلالہ) پڑھایااس نکاح خواں کے لیے تجدید ایمان و نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

حرمت مغلظہ ثابت ہونے کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ نکاح کرنا حرام ہے ،نکاح خواں نے اگر حرمت جانتے ہوئے نکاح پڑھایا تو سخت گناہ گار،فاسق اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ،لہذا فورا توبہ و استغفار کرے،اگر حلال سمجھتے ہوئے نکاح پڑھایا تو احتیاطا تجدید ایمان و نکاح کر ے۔

لما فی الشرح لملا علی قاری رحمہ اللہ:(/117،قدیمی)
ولا نکفر مسلما بذنب من الذنوب وان کانت کبیرۃ اذا لم یستحلھا ولا نزیل عنہ اسم الایمان ونسمیہ مؤمنا حقیقۃ ،ویجوز ان یکون مؤمنا فاسقا غیر کافر ، قولہ:(اذا لم یستحلھا) أی لکن اذا لم یکن یعتقد حلھا لان من استحل معصیۃ قد ثبت حرمتھا بدلیل قطعی فھو کافر ……(فاسقا) ای بعصیانہ واصرارہ
وفی البحر:(5/206،رشیدیہ)
والأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر. وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر وإلا فلا وقيل التفصيل في العالم أما الجاهل فلا يفرق بين الحلال والحرام لعينه ولغيره وإنما الفرق في حقه إنما كان قطعيا كفر به وإلا فلا
وکذافی الشامیة:(6/353،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(2/283،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(7/313،فاروقیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/12،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 59

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔