الجواب حامداً ومصلیا
جسم کے مذکورہ بال صاف کرنا یا ختم کرنا عام حالات میں درست نہیں خلاف ادب ہے،خاص کر بازوؤں اور ٹانگوں کے بال صاف کروانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے اور حدیث پاک میں اس سے منع کیاگیا ہے،البتہ اگر ضرورت ہومثلا کسی بیماری وغیرہ کیوجہ سے تو مونڈنے یا ختم کروانے میں حرج نہیں۔
لما فی الصحیح للبخاری:(2/398،رحمانیہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
وفی الشامیة:(9/671،رشیدیہ)
وفی حلق شعر الصدر والظہر ترک الادب
وکذافی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وفی حلق شعر الصدر والظہر ترک الادب کذا فی القنیۃ
وکذا فی المبسوط:(4/73،دارالمعرفہ)
وکذا فی سنن ابن ماجہ:(1/401،رحمانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/211،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(8/375،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(423،بشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/203،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(18/100،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/5/1442/2020/12/21
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:41