سوال

ایک آدمی کا کہنا ہے کہ میرا اپنی بیوی سے جھگڑا اس وقوعہ کی رات ہوا، اور میں کچھ عرصے سے ایک دوائی کا نسخہ ایک یونانی حکیم کا تجویز کردہ استعمال کررہا تھا، اور اس کا سائیڈ ان فیکٹ یہ تھا کہ کچھ وقت کے لئے میرا دماغی توازن قدرے متخلل ہوجاتا ہے، اور میں نے اس وقت میں وہ دوائی بھی استعمال کی ہوئی تھی، بہرکیف وقوعہ کے دن میں نے کمرہ میں رکھے ہوئے آٹا ٹب کو اٹھاکر باہر پھینک دیا، اور بغیر کسی ارادہ اور سوچ سمجھ کے میری زبان پر بلااختیار یہ الفاظ چڑھ گئے، کہ “طلاق، طلاق، طلاق” چونکہ غصہ کی وجہ سے میری بددماغی اتنی زور پر تھی کہ مجھے میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ یاد نہ تھے اتنا یاد تھا کہ میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ تین ہیں، لوگوں سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ الفاظِ طلاق تھے، اس وقت میری بیوی میرے سامنے بھی نہیں تھی، بیوی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے غصے سے بیوی کی اوڑھنی سے پکڑا اور کمرہ سے باہر دھکا دیا، البتہ خاوند کا چہرہ الفاظِ طلاق کے وقت بیوی کی طرف نہ تھا۔( بیوی کا اور گواہان کاتفصیلی بیان لف ہے) یہ فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کتنی ؟

جواب

الجواب حامداً و مصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً اس دوائی کی وجہ سے دماغ میں خلل و فتور واقع ہوجاتا ہے، جس سے کچھ پتہ نہ چلے کہ کیا بول رہا ہے، جس کو جنون کی سی کیفیت کہتے ہیں، تو طلاق واقع نہ ہوگی۔البتہ اگر عقل میں فتور واقع نہ ہو تو مذکورہ غصے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ خاوند کو خوفِ خدا دلاکر حلفاً اس کی کیفیت معلوم کرلی جائے۔

لما فی الشامیہ: (4/439، ط: رشیدیہ)
وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
و فی بدائع الصنائع: (3/158، ط: رشیدیہ)
اما الذي يرجع إلى الزوج فمنها أن يكون عاقلا حقيقة أو تقديرا فلا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل لأن العقل شرط أهلية التصرف لأن به يعرف كون التصرف مصلحة وهذه التصرفات ما شرعت إلا لمصالح العباد… وجه قولهم: إن عقله زائل والعقل من شرائط أهلية التصرف لما ذكرنا ولهذا لا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل والذي زال عقله بالبنج والدواء كذا هذا
و کذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ (3/229، ط: حقانیہ)
و کذا فی الشامیہ (4/439، ط: رشیدیہ)
و کذا فی البحر الرائق (3/432، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/07/1442/ 2021/03/04
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:179

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔