سوال

زمزم سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

زمزم سے برکت کے لیے وضو اورغسل کرنا درست ہے،البتہ بے وضو اور جنبی آدمی اس سے طہارت حاصل نہ کریں اور نہ ہی جسم یا کپڑوں سے نجاست کو زمزم سے دھویا جائے۔

لما فی ارشاد الساری:(545،فاروقیہ)
ویجوز الاغتسال والتوضو بماء زمزم )ولا یکرہ عند الثلاثہ خلافا لاحمد(علی وجہ التبرک)أی لا باس بما ذکر الا أنہ ینبغی أن یستعملہ علی قصدالتبرک بالمسح أو الغسل أو التجدید فی الوضوء(ولا یستعمل الا علی شئی طاھر)فلا ینبغی أن یغسل بہ ثوب نجس،ولا أن یغستل بہ جنب ولا محدث ولا فی مکان نجس(ویکرہ الاستنجاء بہ) وکذا ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ ثوبہ أو بدنہ حتی ذکر بعض العلماء تحریم ذلک
وفی الدر المختار:(4/61،رشیدیہ)
یکرہ الاستنجاء بماء زمزم لا الاغتسال
وکذا فی الشامیہ:(4/61،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة:(1/91،علوم اسلامیہ)
وکذافی غنیة الناسک:(140،ادارة القرآن)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(21،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/9/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 185

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔