سوال

ہم نے دو ایکڑ زمین فروخت کی ہے جس میں ہمارے دس کے قریب درخت لگے ہوئے تھے ،بیچتے وقت درختوں کا تذکرہ نہیں ہوا اب خریدار کا کہنا ہےکہ وہ درخت بھی میرے ہیں ،یہ درخت بیچنے والے کے ہوں گے یا خریدار کے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

یہ درخت خریدار کے ہوں گے۔

لما فی الھدایہ:(3/26،رحمانیہ)
ومن باع أرضا دخل ما فيها من النخل والشجر وإن لم يسمه” لأنه متصل بها للقرار فأشبه البناء
وفی الھندیہ:(3/33،رشیدیہ)
إذا باع أرضا أو كرما ولم يذكر الحقوق ولا المرافق ولا كل قليل وكثير فإنه يدخل تحت البيع ما ركب فيها للتأبيد نحو الغراس والأشجار والأبنية كذا في الذخيرة
وکذافی الشامیة:(7/78،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(5/491،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(3/23،منار)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/9،امدادیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(2/230،حقانیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/438،قدیمی)
وکذافی شرح المجلة:(2/141،رشیدیہ)
وکذافی التنویر وشرحہ:(7/78،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:77

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔