الجواب حامداً ومصلیا
احادیث میں اس بات کا ثبوت ملتا ہےکہ آپ ﷺ نے بالوں کو رنگنے کا کہا اور یہود و نصاری کی مشابہت سے منع فرمایا،لہذا سیاہ کلر کے علاوہ باقی کلر استعمال کیے جاسکتے ہیں ،لیکن چونکہ یہ عمل مستحب ہے، لہذا اگر کوئی کلر نہ بھی کرے تو وہ یہودیوں کی مشابہت کا مرتکب نہ ہو گا،بلکہ احادیث میں سفید بالوں کو مسلمان کا نور اور قیامت کے دن کا نور کہا گیا ہے۔
لما فی الترمذی:(1/438،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺغیرو الشیب ولا تشبہوا بالیہود
وفی الصحیح للبخاری:(2/875،قدیمی)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال النبی ﷺان الیہود والنصاری لایصبغون فخالفوہم
وکذافی الشامیہ:(9/696،رشیدیہ)
قال فی الذخیرہ: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ، وبعضهم جوزه بلا كراهة
وکذا فی الھندیہ:(5/359،رشیدیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(8/214،تجاریہ)
وکذا فی فتح الباری:(10/435،قدیمی)
وکذا فی نیل الاوطار:(1/139،دارالباز)
وکذا فی نیل الاوطار:(1/140،دارالباز)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2679،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/5/1442/2021/1/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 120