سوال

ایک شخص کی عادت ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ڈرانے کے لیے کہتا ہے میں تجھے طلاق دے دوں گا ،کبھی کہتا ہے کہ میں نے طلاق دے دی ہے،حالانکہ پہلے طلاق دی نہیں ہوتی ،تو کیا ماضی کے اس جملے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

اگر واقعۃ پہلے طلاق نہیں دی تو اس جملے پر دیانۃ تو طلاق واقع نہ ہو گی ،البتہ قضاء یعنی عدالت کے ہاں یاپنجائیت وغیرہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہو جائے گی اور عدت میں رجوع کر سکتا ہے۔

لما فی البحر الرائق:(3/428،رشیدیہ)
ومراده بعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة لما في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ.وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة
وفی کتاب الفقہ:(3/221،حقانیہ)
فلو اقر بدون اکراہ کاذبا او ھازلا فانہ لا یقع دیانۃ بینہ وبین ربہ،ولکنہ یقع قضاء لان القاضی لہ الظاھر ولا اطلاع لہ علی ما فی قلبہ
وکذافی المحیط البرھانی:(4/393،داراحیاء)
اذاقال لامراتہ قد طلقتک او قال انت طالق قد طلقتک امس وھو کاذب کانت طالقافی القضاء
وکذا فی الشامیة:(4/431،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(2/373،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(5/19،دارالمعرفہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/401،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المنتقی فی شرح الملتقی:(2/8،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6987،رشیدیہ)
وکذا فی منحة الخالق علی البحر:(3/428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 168

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔