سوال

ایک عورت کی عادت حیض آٹھ دن کی ہے،آٹھ دن پر خون بند ہوا تو کیا غسل کیے بغیر قربت کی جاسکتی ہےیا دس دن پورے ہونا ضروری ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

دس دن سے پہلے اگر خون بند ہو جائے تو دو شرطوں میں سے ایک کا پایا جانا ضروری ہے،یا تو غسل کر لےیا ایک کامل نماز کا وقت گزر جائے تو قربت کی جاسکتی ہے۔

لما فی الھندیہ:(1/39،رشیدیہ)
وإذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يجز وطؤها حتى تغتسل أو يمضي عليها آخر وقت الصلاة الذي يسع الاغتسال والتحريمة
وفی اللباب شرح الکتاب:(1/62،قدیمی)
وإذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام) ولو لتمام عادتها (لم يجز) أي لم يحل (وطؤها حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه، وإن لم تصل به الأصح، جوهرة (أو يمضي عليها وقت صلاة كامل) بأن تجد من الوقت زمناً يسع الغسل ولبس الثياب والتحريمة
وکذا فی البحر:(1/352،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة:(1/90،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/80،المنار)
وکذا فی البرجندی:(1/60،حقانیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح:(146،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(1/539،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/58،امادیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/173،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/5/1442/2021/1/20
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 4

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔