سوال

ہمارے علاقے میں قبر کی کھدائی کرتے وقت اس کی گہرائی دو سے تین فٹ ہوتی ہے،جس سے میت کو بارش کے دنوں میں پانی پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے اس کی گہرائی شرعا کتنی ہونی چاہیے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

قبر کی گہرائی نصف انسانی قد کے برابر ہو، البتہ بہتر یہ ہے کہ پورے قد کے برابر ہو،تاکہ میت کی حفاظت اچھی طرح ہو سکے۔

لما فی الشامیة:(3/164،رشیدیہ)
قوله مقدار نصف قامة إلخ) أو إلى حد الصدر، وإن زاد إلى مقدار قامة فهو أحسن كما في الذخيرة، فعلم أن الأدنى نصف القامة والأعلى القامة
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1549،رشیدیہ)
وعند الحنفية: مقدار نصف قامة، أو إلى حد الصدر، وإن زاد مقدار قامة فهو أحسن. فالأدنى نصف القامة، والأعلى القامة. وطوله: على قدر طول الميت، وعرضه: على قدر نصف طوله
وکذافی الھندیہ:(1/166،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(/275،المنار)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/452،حقانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/76،فاروقیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/270،قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق:(2/338،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(221،بشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(607،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/5/1442/2021/1/12
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 145

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔