سوال

نماز وتر میں قنوت کے لیے جو ہاتھ اٹھاتے ہیں اس کا ثبوت حدیث سے ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

وتر میں قنوت سے پہلے ہاتھ اٹھانا امام بخاری رحمہ اللہ نے “جزءرفع الیدین”میں حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا عمل نقل کیا ہے۔اس کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں بھی ان دونوں حضرات کا رفع یدین کرنا مذکور ہےاور صحابی کا عمل (مالا یدرک بالرای)حکماً مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتا ہے۔

لما فی آثار السنن:(210،امدادیہ)
عن الاسود عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ أنہ کان یقرأ فی آخر رکعة من الوتر قل ھو اللہ احد ثم یرفع یدیہ فیقنت قبل الرکعۃ ۔رواہ البخاری فی جزء رفع الیدین واسنادہ صحیح
وفی شرح معانی الآثار:(1/390،رحمانیہ)
عن إبراهيم النخعي قال: ” ترفع الأيدي في سبع مواطن: في افتتاح الصلاة , وفي التكبير للقنوت في الوتر , وفي العيدين , وعند استلام الحجر , وعلى الصفا والمروة , وبجمع وعرفات , وعند المقامين عند الجمرتين
وکذافی المصنف لابن أبی شیبہ:(2/101،دارالکتب)
عن مغیرۃ عن ابراھیم قال ارفع یدیک للقنوت …..عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابیہ عن عبد اللہ انہ کان یرفع یدیہ فی قنوت الوتر….عن لیث عن ابن الاسود عن ابیہ عن عبد اللہ أنہ کان یرفع یدیہ اذا قنت فی الوتر
وکذا فی اعلاء السنن:(6/84،85،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 112

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔