سوال

آجکل بازاروں میں لطیفوں پر مشتمل چھوٹے بڑے کتابچے مثلاً “لطیفوں کی دنیا “”مسکرائیے”وغیرہ کے عنوان سے عام مل جاتے ہیں ،ان سے متعلق ایک صاحب فرمارہے تھے کہ ان کو پڑھنا اور سننا،سنانا جائز نہیں ،کیونکہ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے۔ترمذی شریف کی روایت ہے کہ: “ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے”۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ(1)کیا اس صاحب کی بات درست ہے؟(2)کیا ان لطیفوں کا سننا سنانا درست نہیں ؟(3)اس سے آدمی مذکورہ وعید کا مستحق ٹھرتا ہے کہ نہیں ؟(4)کیا ان لطیفوں پر مشتمل کتابچوں کی فروخت جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

(2)

اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں جہاں متانت و سنجیدگی کا عنصر رکھا،وہاں گاہے گاہے ہنسی مزاح ،خوش طبعی اور بے تکلفی کا بھی عنصر ودیعت فرمایا ہے،جس سے دل و دماغ کو سرور اور طبیعت میں نشاط پیدا ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺنے فرمایا :”روحوا القلوب ساعۃ فساعۃ”کبھی کبھار اپنے دلوں کو راحت وسکوں پہنچایا کرو”۔(فیض القدیر:4/53،بیروت)لہذا اگر فرضی لطائف کے سننے سنانے سے غرض مثال بیان کرنا ہو ،تعلیمی فائدہ ہویاتفریح و نشاط ہو جس سےطبیعت کی تھکان و سستی دور ہو تو حرج نہیں ،البتہ اگر مقصود محض ضیاع وقت ،جھوٹھے قصے کہانیاں ،لطائف سنانے کو مشغلہ بنا لیا جائےجس سے نتیجتاً شرعی احکام سے غفلت ہو ،انسانی وقار مجروح ہو اورآپس میں حسد و کینہ کا سبب ہو تو یقیناً جائز نہیں۔(3)محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولاجائےتو مذکورہ وعید کا مستحق ہو گا،یہی اس حدیث مبارکہ کا منشاہے۔(4)علمی،اخلاقی اور نصیحت آموز لطائف و واقعات پر مشتمل کتابچوں کی خریدو فروخت جائز ہے ۔غیر مہذب ،فحش اور اخلاق سوز لٹریچر کی فروخت جائز نہیں۔

لما فی القرآن المجید:(سورةالنور:آیة،19)
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
وفی الجامع للترمذی:(2/506،رحمانیہ)
سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «ويل للذي يحدث بالحديث ليضحك به القوم فيكذب، ويل له ويل له
وفی مرقاة المفاتیح:(8/617،تجاریہ)
قال النووی اعلم ان المزاح المنھی عنہ ھو الذی فیہ افراط ویداوم علیہ ،فانہ یورث الضحک ،وقسوۃ القلب ویشغل عن ذکر اللہ والفکر فی مھمات الدین ویؤول فی کثیر من الاوقات الی الایذاء ویورث الاحقاد ویسقط المھابۃ والوقار ،فاما ما سلم من ھذہ الامور فھو المباح الذی کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یفعلہ علی الندرۃ لمصلحۃ تطییب النفس المخاطب ومؤانستہ،وھو سنۃ مستحبۃ فاعلم ھذا فانہ مما یعظم الاحتیاج الیہ
وکذافی الموسوعة:(37/43،علوم اسلامیہ)
لا بأس بالمزاح إذا راعى المازح فيه الحق وتحرى الصدق فيما يقوله في مزاحه، وتحاشى عن فحش القول، وقد روى ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إني لأمزح ولا أقول إلا حقا۔قال البركوي والخادمي: شرط جواز المزاح قولا أو فعلا أن لا يكون فيه كذب ولا روع مسلم وإلا فيحرم
وکذافی الشامیہ:(9/668،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(11/146،امیر حمزہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
وکذافی التعلیق الصبیح علی مشکوة المصابیح:(5/183،رشیدیہ)
وکذافی أحکام القرآن للشیخ شفیع عثمانی رحمہ اللہ:(3/185،196،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/202/04/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 124

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔