الجواب حامداً ومصلیا
مسجد کے لیےوقف جگہ میں جب تک لوگوں کو نماز کی اجازت دیکر اذان و اقامت کے ساتھ نماز نہ پڑھ لی جائےوہ شرعی مسجد نہیں بنتی،لہذا مالک کی ملک برقرار ہے اور اس کا مسجد و مدرسہ بنانے کے لیے کہنا صحیح ہے۔
لما فی الشامیة:(6/547،رشیدیہ)
وأنه لو قال وقفته مسجدا، ولم يأذن بالصلاة فيه ولم يصل فيه أحد أنه لا يصير مسجدا بلا حكم
وفی البحر:(5/416،رشیدیہ)
(ومن بنى مسجدا لم يزل ملكه حتى يفرزه عن ملكه بطريقه ويأذن بالصلاة فيه وإذا صلى فيه واحد زال ملكه)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/593،المنار)
وکذافی المبسوط:(12/34،دارالمعرفہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(194،قدیمی)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(3/290،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 144