سوال

احمد علی کا انتقال ہوا،جس کے ورثاءمیں ایک زوجہ(حمیدہ) ،تین بیٹے(راشد،قاسم،اختر) اور دو بھائی(اشرف،امجد) ہیں۔احمد علی کاترکہ دس ایکڑ زمین اور 2لاکھ نقدی ہے،ابھی ترکہ تقسیم نہ ہوا تھاکہ احمد علی کے بیٹےقاسم علی کا انتقال ہو گیا جسکےورثاء میں ایک بیوی (مجیدہ)دوبیٹے (آصف ،انور)والدہ اور دو بھائی (راشد،اختر)زندہ ہیں ترکہ کی تقسیم کس طرح ہو گی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
کل ترکہ کے 1152 برابر حصے کیے جائیں گے جن میں سے 200 حصے (٪17.4) حمیدہ کو،راشد اور اختر میں سے ہر ایک کو336حصے (٪29.16) ،قاسم (مرحوم) کی بیوی مجیدہ کو42 حصے (٪3.64) اور آصف انور میں سے ہر ایک کو 119 حصے (٪10.32)ملیں گے۔مرحوم احمد علی کے ترکہ میں سے قاسم علی (مرحوم) کو ملنے والا حصہ اس کے ورثاء کو دے کر مسئلہ تحریر کیا گیا ہے۔
سوال میں مذکور رقم میں سےحمیدہ کو 34722.22روپے،راشد،اختر میں سے ہر ایک کو 58333.33 روپے، مجیدہ کو 7291.67 روپے اورآصف ،انور میں سے ہر ایک کو 20659.72روپے ملیں گے۔
زمین میں سےحمیدہ کو 13.9کنال،راشد اور اختر میں سے ہر ایک کو 23.33کنال،مجیدہ کو 2.91کنال،اور آصف،انورمیں سے ہر ایک کو8.26کنال دی جائیں گی۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی التنویروشرحہ:(10/550،رشیدیہ)
ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7907،رشیدیہ)
والمراد بها هنا: انتقال نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منہ ،فهي أن يموت من ورثة الميت الأول واحد أو أكثر قبل قسمة التركة
وکذا فی التنویر وشرحہ:(10/547،رشیدیہ)
وللأم) ثلاثة أحوال (السدس مع أحدهما أو مع اثنين من الأخوة أو) من (الأخوات) فصاعدا
وکذا فی المبسوط:(29/148،دارالمعرفہ) وکذا فی البحر الرائق:(9/380،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیة:(20/224،فاروقیہ) وکذا فی السراجی فی المیراث:(18،بشری)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/298،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/5/1442/2021/1/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 113

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔