سوال

واش روم کے اندر وضو کرتے ہوئےوضو کی دعائیں پڑہنا کیسا ہے ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیا

جو جگہیں نجاست کو زائل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں ان میں دعائیں زبان سے پڑہنا اللہ جل شانہ کے نام کی عظمت و احترام کے خلاف اور بے ادبی ہے اس لیے درست نہیں،لہذا واش روم سے نکل کر دعائیں پڑھ لی جائیں۔

لما فی الشامیة:(3/99،رشیدیہ)
وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك، وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراءة، وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به
وفی کتاب الفقہ:(1/62،حقانیہ)
ولہ ان یسمی قبل الاستنجاءوبعدہ بشرط ان لا یسمی فی حال الانکشاف ولا فی محل النجاسۃ
وکذافی الجوھرة:(1/29،قدیمی)
وکذا فی معارف السنن:(1/77،سعید)
وکذا فی بذل المجہود:(1/41،قدیمی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(2/55،تجاریہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/51،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 176

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔