سوال

ایک آدمی “یا شمنون”پڑھ کر دم کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دم یا تعویذ میں ایسے کلمات ہونا ضروری ہے جن کا معنی مفہوم معلوم ہواور شرکیہ یا کفریہ نہ ہو۔شمنون کا معنی معلوم نہ ہوسکا،البتہ اس سے ملتا جلتا کلمہ”شمن ” کامعنی “بت پرست”ہے،اس اعتبار سے “یا شمنون ” میں شرکیہ معنی کا شائبہ ہے،لہذا اس سے دم کرنا جائزنہیں۔

لما فی الشامیہ:(9/600،رشیدیہ)
قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به
وفی لغات فارسی:(2/81،عمر)
شمن (ف) بت پرست
وفی بھجة المحافل وبغیة الاماثل:(1/53،شاملہ)
قال الجوهري وهو الصنم واحد الاصنام ويقال انه معرب شمن وهو الوثن وقال غيره الوثن الجثة من أجزاء الارض أو الخشب يعبد
وکذافی فتح الباری:(10/240،قدیمی)
وکذافی النھایہ لابن الاثیر:(2/214،عصریہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/318،320،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/97،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 115

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔