سوال

ایک آدمی نے اپنی بھانجی کےلیے انشورنس پالیسی لی ،اب وہ خاتون اپنے جمع شدہ پیسے نکلوانا چاہتی ہے تو کیا وہ اپنی جمع شدہ رقم (علاوہ اضافی رقم ) واپس لے سکتی ہے یا وہ بھی نہیں لے سکتی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

قسطوں کی شکل میں جمع کروائی ہوئی اپنی اصل رقم واپس لینا اور اسے استعمال میں لانا بالکل جائز ہے ،البتہ اضافی ملنے والی رقم سود ہے، اسکا استعمال ناجائز ہے۔ اسے ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کر دیا جائےاور آئندہ ایسی پالیسی حاصل کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرة:279)
وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
وفی التفسیر المنیر:(2/98،امیر حمزہ)
وإن رجعتم عن الرّبا امتثالا لأمر الله، فتستحقون رؤوس أموالكم كاملة فقط، لا نقص ولا زيادة، فلا تظلمون أحدا بأخذ الرّبا، ولا تظلمون بنقص شيء من أموالكم
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/60،علوم اسلامیہ)
من اربی ثم تاب فلیس لہ الّا راس مالہ
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/290،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی احکام القرآن للعثمانی رحمہ اللہ:(1/673،ادارة القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3739،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/187،معارف القرآن)
وکذافی الشامیہ:(5/99،سعید کراتشی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(32،34/39،245،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 76

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔