الجواب حامداً ومصلیاً
والدین کا اپنی اولاد کو بچپن میں ہی کسی کے نام کردینا اور پھر بعد میں خواہ حالات کیسے ہی ہوں ،انکی مصلحت کی رعایت کیے بغیر انکا نکاح کروادینا ایک نہایت قبیح رسم ہے۔ یہ رسم گھروں کی بربادی اور معاشرے میں فساد کا ایک ذریعہ ہے ۔
مگر افسوس ہے کہ ہم آج خود ساختہ رسوم کے اس قدر پابند ہوچکے ہیں کہ ان رسوم کو بجالانے کی خاطر قرآن و سنت کی تعلیمات کو بھی پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اپنی اولاد کو ان قبیح رسوم کی نذر کرکے ہمیشہ کےلیے انکے مستقبل کو تاریک کر دیتے ہیں۔
اولاد کے نکاح کے سلسلہ میں قرآن و سنت کی تعلیم یہ ہے کہ جب بچہ اور بچی نکاح کے قابل ہوجائیں تو والدین کا فریضہ ہے کہ ان کے لیے مناسب رشتہ تلاش کریں اور مناسب رشتہ ملنے پر اپنی اولاد سے مشورہ کریں ، اولاد کی رضامندی ظاہر ہونے پر انکا نکاح کروا دیں۔اگر اولاد نابالغ ہو اور کوئی مناسب رشتہ میسر آ جائے تو شریعت سب سے پہلے باپ کو اس بات کا حق دیتی ہےکہ اپنی اولاد کی مصلحت دیکھتے ہوئے اس کا نکاح کردے۔(1) صورت مسئولہ میں بھی نابالغہ بچی کا باپ چونکہ زندہ ہےاس لیے بچی کے نکاح کا مکمل اختیار باپ کو ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو اس بچی کا نکاح کرنے کا شرعا کوئی اختیار نہیں۔ جب باپ مذکورہ نکاح کو بچی کے حق میں مفید نہیں سمجھتا تو اس کا حق بنتا ہے کہ اس نکاح سے انکار کردے ،کسی کو اس پر جبر کرنے کا شرعا کوئی حق نہیں۔(2) اس خلاف شریعت حکم کی تعمیل نہ کرنے پر باپ کا بیٹے کو عاق کردینے اور ہمیشہ کےلیے تعلق ختم کردینے کی دھمکی دینا اور بھی بڑا جرم ہے ۔ شریعت باپ کو ہرگز یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی اولاد کو وراثت سے محروم کردے۔مزید یہ کہ عاق کردینے کا شرعا کوئی اعتبار ہی نہیں ۔ عاق کرنے کے باوجود بھی بیٹا وراثت کا مستحق رہتا ہے۔(3) اگر والد گونگے شخص سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے میں بیٹی کےلیے مصلحت سمجھے تو اس نکاح میں کوئی حرج نہیں، البتہ اگر باپ کے پیش نظر کوئی مصلحت نہ ہو، بلکہ بیٹی کا مستقبل تاریک ہونے کا اندیشہ ہو ،اس کے باوجود محض ذاتی اغراض یا رسم و رواج سے مجبور ہوکر نکاح کرنا چاہے تو اس کی شرعا کوئی گنجائش نہیں۔(4)باپ کی موجودگی میں بھائی کو ولایت نکاح حاصل نہیں۔
لما فی مشکوة المصابیح:(2/278،رحمانیة)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: لاتنکح الأیم حتی تستأمر و لاتنکح البکر حتی تستأذن
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(282،البشری)
الولی فی نکاح الصغیر و الصغیرۃ ھو الأب فإن لم یکن فالولی ھو الجد
وفی الموسوعة الفقھیة:(45/172،علوم اسلامیة)
ذھب الفقھاء الی أن للأب ولایۃ تزویج ابنہ الصغیر و ابنتہ الصغیرۃ
وفی مشکوة المصابیح:(1/272،رحمانیة)
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من قطع میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/278،رحمانیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(41/260،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/63،الطارق)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/166،رشیدیة)
وکذافی تکملة رد المحتار:(7/505،سعید)
واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/7/1442/2021/2/20
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:90