سوال

بخاری شریف میں ایسی کوئی حدیث ہے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہوں؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! بخاری شریف میں اس مضمون کی روایت موجود ہے ،مگر یہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک نہیں ہے، بلکہ صحابی رسول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اثر مبارک ہے، چنانچہ بخاری شریف میں ہے

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: “فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاء(صحیح البخاری:2/264،رحمانیہ)

ترجمہ: حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ نے شادی کی ہے ؟میں نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو ، کیونکہ اس امت کا سب سے بہترین شخص وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہوں۔“(کشف الباری : کتاب النکاح :142،فاروقیہ)
اس اثر مبارک کی تشریح کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”خیر ھذہ الامۃ سے یا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراد ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کا سب سے بہترین شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور ان کی نو بیویاں تھیں، اس لیے تم بھی شادی کرلو اور یا اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراد نہیں ، بلکہ عام امتی مراد ہے۔ اس صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ جس کی عورتیں زیادہ ہوں گی وہ بہترین آدمی ہوگا (بشرطیکہ وہ عدل بین الازواج کرنے والا ہو) اس لیے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں اضافے کا سبب بنے گا۔“
(کشف الباری: کتاب النکاح:142،فاروقیہ)
اور یہ اثر دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہے۔

لما فی المستدرک علی الصحیحین:(2/280،قدیمی)
عن سعيد بن جبير، قال: قال لي ابن عباس: يا سعيد، تزوج فإِن خير هذه الأمّة أكثرهم نساء
وفی المعجم الکبیر للطبرانی:(6/19،دارالکتب العلمیہ)
عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: تزوَج فإن خير هذه الأمة كان أكثرها نساء

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:75

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔