سوال

پانچ بھائی ہیں ، ان میں سے بڑے بھائی کی شادی ہوگئی ، پھر اس کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی ۔ بعد میں یہ بڑا بھائی فوت ہوگیا، جبکہ اس کے والدین حیات ہیں اور زمین وغیرہ ابھی انہیں کی ملکیت میں ہے، بھائیوں میں تقسیم نہیں ہوئی۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس بڑے بھائی کی بچی اس میراث کی حق دار ہوگی جو بڑے بھائی کو والدین کی طرف سے ملنی تھی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کی وفات کے وقت اگر ان کے حقیقی بیٹوں میں سے کوئی حیات ہوا تو یہ پوتی میراث کی حق دار نہ ہوگی۔

لما فی التاتارخانیة:(20/225،فاروقیہ)
ان کان للمیت ابن فلا شئ لبنت الابن
وفی الفتاوی الھندیة:(6/448،رشیدیہ)
فإن کان فی أولاد الصلب ذکر فلا شئ لأولاد الإبن ذکورا کانوا أو اناثا
وکذافی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(10/7777،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/212،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/375،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(23/289،بیروت)
وکذافی السراجی:(20،البشری)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/39،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:175

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔