الجواب حامداً ومصلیاً
نشہ آور ہونے کی وجہ سے چرس کا بلا ضرورت استعمال اگرچہ حرام و ناجائز ہے،مگر یہ چرس خودپاک ہے ،پانی میں گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا،البتہ اگر پانی کی قلیل مقدار میں چرس ملی ہو تو اس کا پینا اس لیے درست نہ ہو گا کہ وہ نشہ آور بن چکاہے۔
لما فی فقہ البیوع:(1/294،معارف القرآن)
وقد ثبت من مذھب الحنفیۃ المختار ان غیر الاشربۃ الاربعۃ(المصنوعۃ من التمر او من العنب)لیست نجسۃ
وفی الفقہ السلامی وادلتہ:(1/292،رشیدیہ)
انواع الاعیان الطاھرۃ. . . . . .وجمیع انواع النبات ولو کان ساما او مخدرا کالحشیش والافیون والبنج
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(10/46، رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(10/47،43، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(8/218،علوم اسلامیہ)
وکذافی کتاب الفقہ للجزری:(1/13،حقانیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی المحیط البرھانی :(19/123،بیروت)
وکذافی الھدایة:(4/499،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:153