سوال

ہمارے شہروں میں کسی کے انتقال کے وقت جب تک میت کا جنازہ نہیں ہوتا تب تک ہاتھ اٹھا کر دعا نہیں کرتے، میت دفنانے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

تدفین کے بعد قبر پر قبلہ رو کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے، لیکن تدفین سےقبل اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا اور اسے لازمی سمجھنا بدعت ہے، اس سے احتراز لازم ہے اور لوگوں کو اس سے روکنا بالکل درست ہے۔
تاہم اگر کوئی شخص انفرادی طور پر میت کےلیے دعاءمغفرت کرے تو جائز بلکہ مستحسن ہے اور اس کےلیے ہاتھ اٹھا لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

لما فی فتح الباری:(11/173،قدیمی)
وفي حديث بن مسعود رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبر عبد الله ذي البجادين الحديث وفيه فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه
وفی مرقاة المفاتیح:(4/187،المکتبة التجاریة)
عن ابن مسعود قال: والله فكأني أرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبر عبد الله ذي البجادين، وأبو بكر وعمر، يقول: أدنيا مني أخاكما، وأخذه من قبل القبلة، حتى أسنده في لحده، ثم خرج رسول صلى الله عليه وسلم وولاهما العمل، فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعا يديه يقول: اللهم إني أمسيت عنه راضيا فارض عنه
وفی الفتاوی الھندیة:(5/319،رشیدیہ)
کرہ ان یقوم رجل بعد ما اجتمع القوم للصلاۃ و یدعو للمیت و یرفع صوتہ
وفی خلاصة الفتاوی:(1/225،رشیدیہ)
و لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/303،قدیمی)
وکذافی فتح الباری:(8/51،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(1/507،سعید)
وکذافی اعلاء السنن:(3/183،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:159

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔