الجواب حامداً ومصلیاً
تعمیر کے وقت اس نئی جگہ کے تہہ خانہ میں غیر مسجد کی نیت کرنا درست ہے،لیکن اسے مصالح مسجد کےلیے استعمال کیا جانا چاہیے۔(2)خرچ کرنے والے کو اطلاع کرنا ضروری ہے کہ یہ حصہ مسجد میں داخل نہیں۔
لما فی الفتاوی الھندیة:(2/455،رشیدیة)
و لو کان السرداب لمصالح المسجد جاز کما فی مسجد بیت المقدس
وفی التنویر مع الدر المختار:(6/548،دارالمعرفة)
و اذا جعل تحتہ سردابا لمصالحہ ) أی المسجد(جاز) کمسجد المقدس
وکذافی الشامیة:(2/517،رشیدیة)
وکذافی تقریرات الرافعی :(6/549،دارالمعرفة)
وکذافی البحر الرائق:(5/421،رشیدیة)
وکذافی الھدایة:(2/620،رشیدیة)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(348،البشری)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/137،بیروت)
وکذافی ردالمحتار:(6/553،554،دارالمعرفة)
واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:148