سوال

جمعہ کے دن خرید و فروخت اور دیگر معاملات ترک کرنے کا تعلق جمعہ کی پہلی اذان سے متعلق ہے یا دوسری سے؟ میں نے پڑھا تھا کہ یہ حکم دوسری اذان سے متعلق ہے،جبکہ ہمارے معمول میں اور اسی طرح اس سے متعلق سنا بھی تھا کہ یہ حکم پہلی اذان سے متعلق ہے اور پہلی اذان تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے شروع ہوئی ،جبکہ دوسری اذان شروع سے چلی آرہی ہے،لہذا فقہی حوالے سے اس بارے جو تحقیق ہو وہ بیان کردی جائے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

راجح قول کے مطابق خریدوفروخت اور دیگر معاملات ترک کرنے کا حکم پہلی اذان سے متعلق ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(3/42،رشیدیہ)
وجب سعی الیھا و ترک البیع بالاذان الاول) فی الاصح و ان لم یکن فی زمن الرسول بل فی زمن عثمان
وفی الموسوعة الفقھیة:(27/205،علوم اسلامیہ)
وجوب السعی الیھا و ترک معاملات البیع و الشراء عند الاذان الثانی و ھو قول الجمھور …و قال الحنفیۃ فی الاصح عندھم انما یجب ذلک عند الاذان الاول
وفی الھدایة:(1/154،رشیدیہ)
واذا اذن المؤذنون الاذان الاول ترک الناس البیع و الشراء و توجھوا الی الجمعۃ
وکذافی کنز الدقائق:(45،حقانیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی الدر المنتقی مع مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی العنایة مع فتح القدیر:(2/66،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/149،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1283،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 162

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔