سوال

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک صریح طلاق دی۔ 20 دن کے بعد اس عورت نے دوسرے آدمی سے نکاح کر لیا ۔ اس دوسرے آدمی نے ایک مہینہ بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ اب یہ عورت پہلے خاوند کے پاس آنا چاہتی ہے تو کیا جدید نکاح کرنا پڑے گا یا پہلا نکاح کافی ہے؟ دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے کوئی اور حکم تو اس کی طرف متوجہ نہ ہوگا؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

دوران عدت دوسرے آدمی سے نکاح کرنا سخت گناہ کا سبب ہے اور ایسا نکاح فاسد ہے۔ اس نکاح کی وجہ سے نکاح میں مقرر مہر اور مہر مثلی میں سے جو کم ہو وہ مرد کے ذمہ عورت کو دینا لازم ہے اور جدائی کے بعد سے عورت پر اس دوسرے خاوند کی عدت لازم ہے۔
سوال میں مذکور مدت ایک ماہ 20 دن میں اگرعورت کی پہلے خاوند سے عدت(3 حیض) نہیں گزری تو خاوند اسے سابقہ نکاح کے ساتھ واپس لا سکتا ہے،تجدید نکاح کی ضرورت نہیں، لیکن اس صورت میں دوسرے خاوند کی وجہ سے لازم عدت گزرنے سے پہلے یہ خاوند عورت کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہیں کر سکتا۔
اور اگر مذکورہ مدت میں عورت پہلے خاوند کی عدت مکمل گزار چکی ہے تو اب دوسرے خاوند سے علیحدگی کے بعد اس کی وجہ سے لازم مکمل عدت گزارے گی پھر نئے نکاح کے ساتھ پہلے خاوند کے پاس آسکتی ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/280،رشیدیہ)
لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ و کذلک المعتدۃ کذا فی السراج سواء کانت العدۃ عن طلاق او وفاۃ
وفی الموسوعة الفقھیة:(36/219،علوم اسلامیہ)
نكاح معتدة الغير يعتبر من الأنكحة الفاسدة المتفق على فسادها ويجب التفريق بينهما …ويتفق الفقهاء على وجوب المهر في هذا النكاح بالدخول (أي بالوطء) وعلى وجوب العدة كذلك
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی :(289،310،البشری)
اذا طلق الرجل إمرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا ما دامت ھی فی العدۃ سواء رضیت بذلک او لم ترض فاذا راجعھا فی العدۃ فھی إمرأتہ …لا تصح الرجعۃ بعد مضی المدۃ… و یجوز ان ینکحھا نکاحا جدیدا برضاھا
وکذافی الھندیہ:(1/330،رشیدیہ) وکذافی الشامیہ:(5/204،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/266،رشیدیہ) وکذافی البحر الرائق:(4/241،رشیدیہ)
وکذافی کنز الدقائق:(105،حقانیہ) وکذافی البحر الرائق:(3/294،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:80

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔