سوال

نعیم سہیل کی بیوی میکے گئی اور فون پر جھگڑا ہوگیا، بیوی نے کہا کہ مجھے لینے آؤ گے تو میں آؤں گی، اس نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں نے نہیں آنا، اس بات پر اس نے رابطہ منقطع کردیا۔ ایک ماہ بعد ہم اسے لینے گئےتو انہوں نے کافی باتیں کیں کہ وہ خود لینے آئے،مگر یہ گیا نہیں، اس بناء پر انہوں نے اسے ہمارے ساتھ بھیج دیا۔ ہم گھر آئے تو سہیل نے کہا کہ اسے کیوں لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا تھا کہ وہ خود آئے،اب کیوں آئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جیسے جیسے سوچتا گیا اس کی طبیعت خراب ہوتی گئی، ساری ساری رات جاگتے گزار دیتا،سوتا نہیں تھا۔ جمعہ والے دن صبح صبح نہا کر نکل گیا اور سارا دن فون بھی بند رہا ۔ اس دن یہ عارف والا گیا تھا، وہاں ایک لڑکی ہے ، رانے ذات کے ہیں، ان کے ساتھ ہماری دشمنی بھی ہے۔ کہتا ہے کہ میں نے اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے، حالانکہ اس کی شادی ہوچکی ہے، تین بچے بھی ہیں، کہتا ہے کہ وہ میرے دل سے نہیں نکلتی۔پہلے بھی ایک بار ایسا ہوا تھا ، اس وقت بھی اسی لڑکی کے بارے میں باتیں کرتا تھا۔ پھر کل رات کو سہیل کہنے لگا کہ میں نے اس کمرے میں نہیں سونا، میں جارہا ہوں۔ اس کی بیوی نے کہا کہ میں چلی جاتی ہوں، آپ ادھر ہی سو جاؤ۔اس سے ان کا جھگڑا ہوگیا ۔اس نے اپنی بیوی کو مارنا شروع کردیا اور اس کا بڑا بھائی باہر گیا ہوا تھا، وہ باہر سے آیا تو یہ اسے مار رہا تھا ، اس نے ہٹایا تو وہ اپنے بڑے بھائی کو ہی مارنے لگ گیا، اس سے دونوں آپس میں لڑنے لگ گئے۔ اسی دوران اس نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے دی اور اب نہ تو یہ سوتا ہے، ہر کسی کو گالیاں دیتا ہے، ماں کو بھی نہیں چھوڑتا ، چھوٹی سی بات پر لڑنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے باہر جانے دو، میں گھر نہیں رہتا ، مجھے گھر اچھا نہیں لگتا۔ ہم نے دروازے کو تالا لگایا ہوا ہے، ہم اسے باہر نہیں جانے دیتے۔غصے میں اس کا اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا، منہ میں جو آئے کہہ دیتا ہے۔ ہم اسے کل بڑی مشکل سے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے، ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا دماغ کام نہیں کررہا۔ تو اب اس کی بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کسی مسلمان دین دار ماہر ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق واقعی کسی شخص کا ذہنی مریض ہونا ثابت ہوجائے یا اس کا ذہنی مریض ہونا پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ شخص اسی ذہنی مرض کی بناء پر ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے طلاق دے دے تو ایسے آدمی کی طلاق شرعا معتبر نہیں ہوتی۔
بس اصل مدار اسی پر ہے کہ طلاق دیتے وقت وہ ذہنی مریض تھا یا نہیں۔ اگر ذہنی مریض تھا اور گھر والے افراد اسے ذہنی مریض ہی سمجھ رہے تھے تو طلاق نہیں ہوئی، ورنہ تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں

لما فی التنویر:(4/437،رشیدیہ)
لا یقع طلاق المولی علی امرأۃ عبدہ و المجنون و الصبی و المعتوہ
وفی الشامیة:(4/437،رشیدیہ)
قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة

 

وفی الموسوعة الفقھیة:(29/15،علوم اسلامیة)
ذهب الفقهاء إلى عدم صحة طلاق المجنون والمعتوه ….فإن حكم طلاق المبتلى به منوط بحاله عند الطلاق، فإن طلق وهو مجنون لم يقع، وإن طلق في إفاقته وقع لكمال أهليته
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(299،البشری)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/158،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/164،قدیمی)
وکذافی ملتقی الأبحر علی ھامش مجمع الأنھر:(2/8،المنار)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/9/1442/2021/5/2
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:152

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔