سوال

ایسی کوئی حدیث ہے کہ” شبنم کا ایک قطرہ جنت سے آتا ہے“؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

تلاش و جستجو کے باوجود سوال میں مذکور الفاظ کتب احادیث میں کہیں نہیں ملے،البتہ ایک روایت میں کچھ اور الفاط ملتے ہیں اور ممکن ہے سائل کا یہ مضمون بھی انہی سے اخذ کیا گیا ہو

عَلَیْکُمْ بالْھِنْدُبَاءِفَاِنَّہٗ مَا مِنْ یَوْمٍ اِلَّا وَھُوَ یَقْطُرُ عَلَیْہِ قِطْرٌ مِنْ قِطْرِ الْجَنَّۃِ

ترجمہ :ہندباء (کاسنی ۔ایک پودا ہے) کو ضرور استعمال کرو کیونکہ اس پر ہر روز جنت سے ایک قطرہ ٹپکتا ہے
اس روایت کو بعض محدثین نے ضعیف اور بعض نے موضوع و منگھڑت کہا ہے۔

لما فی کنز العمال:(12/155،رحمانیہ)
على كل ورقة من الهندباء حبة من ماء الجنة
وفیہ ایضاً:(12/155،رحمانیہ)
ما من ورقة من ورق الهندباء إلا وعليها قطرة من ماء الجنة. ( طب – عن محمد بن علي بن الحسين عن أبيه عن جده؛ وقال ابن كثير: منكر جدا، وقال ابن دحية: موضوع
وفی زاد المعاد :(3/898،علمیہ)
هندبا: ورد فيها ثلاثة أحاديث لا تصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يثبت مثلها، بل هي موضوعة أحدها: ( «كلوا الهندباء ولا تنفضوه فإنه ليس يوم من الأيام إلا وقطرات من الجنة تقطر عليه
وفی مجمع الزوائد:(5/40،دارالکتب العلمیہ)
ما من ورق [من ورق] الهندباء إلَّا وعليها قطرة من ماء الجنة. (رواه الطبراني وفيه أرطأة بن الأشعث وهو ضعيف جدا
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(12/225،نعمانیہ)
وکذافی اللآلی المصنوعة للسیوطی رحمہ اللہ:(2/187،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی فیض القدیر:(4/457،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی شعب الایمان للبیہقی:(5/106،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی المعجم الکبیر:(2/251،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/223،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:70

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔