سوال

نوم العالم خیر من عبادۃ الجاھل“ کیا یہ حدیث ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ الفاظ کے ساتھ یہ روایت تلاش و جستجو کے باوجود کتب احادیث میں نہ مل سکی، البتہ اسی مضمون کی ایک اور روایت ملتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں

عن سلمان أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل (حلیۃ الاولیاء: 4/385،دارالکتب العلمیہ)

ترجمہ: ”علم کی حالت میں سونا جہالت کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے“
اس روایت کو محدثین نے ضعیف کہا ہے۔

لما فی کنز العمال:(10/61،رحمانیہ)
” نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل.”
وفی حلیة الأولیاء:(4/385،دارالکتب العلمیة)
“عن أبی البختری عن سلمان أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل.”
وکذافی کشف الخفاء:(2/329،الغزالی)
وکذافی الموضوعات الکبری:(255،قدیمی)
وکذافی مسند الفردوس للدیلمی:(4/247،بیروت)
وکذافی فیض القدیر:(6/378،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الطبقات الکبری:(3/506،عمریة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:154

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔