الجواب حامداً ومصلیاً
شرعی مسافت طے کرنے کے بعدصحراوں جنگلوں اور دریاوں میں 15 راتوں سے زائد قیام کر بھی لیں تو ان جگہوں میں اقامت کی نیت معتبر نہیں ہے،اور نماز قصر ہی پڑھی جائے گی،البتہ جوایسی جگہوںمیں مستقل رہتے ہوں ان کا حکم الگ ہے۔
لما فی خلاصہ الفتاوی:(1/199،رشیدیہ)
ثم نیۃ الاقامۃ لا تصح الا فی موضع الاقامۃ ممن یتمکن من الاقامۃ وموضع الاقامۃ العمران والبیوت المتخذۃ من الحجر والمدر والخشب لاالخیام والاخبیۃ والوبر والغزاۃ
وفی کتاب الفقہ:(1/407،الحقانیہ)
فلو نوی الاقامۃ فی صحراء لیس فیہا سکاناو فی جزیرۃ او فی بحر فانہ یجب علیہ القصر
وکذا فی شرح العینی:(1/95،ادارت القران والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الہدایہ مع فی فتح القدیر:(2/11،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/497،فاروقیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(1/78،زمزم)
وکذا فی غنیہ المصلی:(1/540،رشیدیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ غفراللہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:36