سوال

فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کرنے کا کیا حکم؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

فجر اور عصر کے بعد بلا کراہت ادا کیا جا سکتا ہے۔

لما فی الہندیہ:(1/52،رشیدیہ)
 تسعۃ اوقات یکرہ فیہا النوافل۔۔۔ فیجوز فیہا قضاء الفائتۃ وصلاۃ الجنازۃ وسجد ۃ التلاوۃ۔۔۔منہا ما بعد طلوع الفجر۔۔۔ ومنہا مابعد صلاۃالفجر ۔۔۔ ومنہا ما بعد صلاۃ العصر قبل التغییر
وفی الدر المختار:(1/375،سعید)
بعد صلاۃفجرو صلاۃ عصر۔۔۔لا یکرہ قضاء فائتۃ ولو وترا او سجد ۃتلاوۃ وصلاۃ جنازۃ
وکذافی الشامیہ:(1/373، سعید)
وکذافی البحر الرائق:(1/434،رشیدیہ)
وکذافی الہندیہ:(1/52،رشیدیہ)
وکذافی التاتار خانیہ:(2/،1715،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1442/2021/4/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:133

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔